تحریر:مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی| تاریخ میں بعض فتوحات ایسی ہوتی ہیں جو میدانِ جنگ میں نہیں، بلکہ دلوں اور ذہنوں میں رقم ہوتی ہیں۔ ان فتوحات میں نہ توپوں کی گھن گرج ہوتی ہے، نہ شہادتوں کی فہرستیں؛ مگر ان کا اثر برسوں تک محسوس کیا جاتا ہے۔ آج ایران کے حوالے سے جو منظرنامہ سامنے آ رہا ہے، وہ اسی نوع کی ایک اخلاقی اور نفسیاتی فتح کی گواہی دیتا ہے۔
یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ اگر جنگ نہیں ہوئی، تو پھر یہ غیر معمولی فوجی بے چینی کیوں؟
اگر ایران کمزور ہے، تو اتنی تیاری کس خوف کے تحت؟
اور اگر دشمن پُراعتماد ہے، تو پھر یہ اضطراب کیسی علامت ہے؟
غیر معمولی فضائی سرگرمی: ایک تشویشناک اشارہ:
حالیہ دو ہفتوں کے دوران یورپ اور مشرقِ وسطیٰ میں جو فضائی نقل و حرکت دیکھی گئی ہے، وہ معمول کے عسکری مشقوں سے کہیں بڑھ کر ہے۔ کھلے ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات، پروازوں کی نگرانی کرنے والے نظام، سیٹلائٹ تصاویر اور ماہرین کی سیکیورٹی رپورٹس یہ بتاتی ہیں کہ آٹھ سو چھیالیس سے زائد فوجی اور معاون طیارے مختلف اڈوں پر ہائی الرٹ حالت میں پہنچ چکے ہیں۔
یہ محض تعداد کا کھیل نہیں، بلکہ اس بات کا اعلان ہے کہ خطہ ایک غیر یقینی کیفیت میں داخل ہو چکا ہے۔
اسپین کے مورون فضائی اڈے پر فضا میں ایندھن فراہم کرنے والے چار بڑے طیارے موجود ہیں، جن کا مقصد جنگی طیاروں کی پرواز کو طویل بنانا ہے۔
جرمنی کے رامسٹائن اڈے پر جدید ترین کثیر المقاصد ایندھن بردار اور مال بردار طیارہ تعینات کیا گیا ہے، جو طویل جنگی منصوبہ بندی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
برطانیہ کے دو اہم فضائی اڈوں پر ایندھن بھرنے والے طیارے، خصوصی آپریشنز کے لیے عمودی پرواز کرنے والے جہاز، خفیہ مشنوں میں استعمال ہونے والے طیارے، اور درجنوں جدید لڑاکا جہاز موجود ہیں، جن میں زمین پر حملہ کرنے والے اور ریڈار سے بچنے والے طیارے شامل ہیں۔
بحیرۂ روم اور یونان کا کردار
اٹلی کے سسلی جزیرے میں فضائی نگرانی اور کمانڈ کے لیے مخصوص طیارہ تعینات ہے، جو پورے خطے کی فضائی صورتِ حال پر نظر رکھتا ہے۔
کریٹ کے جزیرے پر لاجسٹک اور ایندھن بھرنے والا طیارہ موجود ہے، جو طویل آپریشنز میں بنیادی سہارا فراہم کرتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی گھن گرج:
قبرص کے فضائی اڈے پر جدید لڑاکا طیارے، ایندھن بردار جہاز اور نگرانی کرنے والا ڈرون تعینات ہے۔
اردن میں درجنوں ایسے لڑاکا طیارے موجود ہیں جو طویل فاصلے تک حملہ کرنے اور زمینی فوج کی مدد کے لیے خاص طور پر تیار کیے گئے ہیں۔
اسرائیلی فضائی طاقت
اسرائیل کے مختلف فضائی اڈوں پر جدید ترین اسٹیلتھ طیارے، سینکڑوں کثیر المقاصد لڑاکا جہاز، فضائی برتری حاصل کرنے والے طیارے، انٹیلی جنس اور نگرانی کے خصوصی جہاز، اور ایندھن فراہم کرنے والا طیارہ موجود ہے۔
یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ خوف محض دفاعی نہیں، بلکہ گہری بے چینی کا مظہر ہے۔
خلیج کا دباؤ:
قطر کے مختلف فضائی اڈوں پر درجنوں ایندھن بردار، بھاری مال بردار اور جدید لڑاکا طیارے تعینات ہیں، جن میں یورپی اور فرانسیسی ساختہ جہاز بھی شامل ہیں۔
سعودی عرب میں فضائی نگرانی، ایندھن کی فراہمی اور معاونت کے لیے ایک وسیع بیڑا تیار کھڑا ہے۔
متحدہ عرب امارات میں جدید ڈرون، درجنوں لڑاکا طیارے اور جدید سینسرز سے لیس جہاز موجود ہیں، جبکہ بحرین کے بارے میں تفصیلات اگرچہ ظاہر نہیں کی گئیں، مگر خاموشی خود بہت کچھ کہہ رہی ہے۔
سمندر میں طاقت کا مظاہرہ
بحیرۂ عرب میں موجود ایک بڑا طیارہ بردار بحری جہاز اپنے ساتھ درجنوں لڑاکا طیارے، الیکٹرانک جنگی جہاز اور ہیلی کاپٹر رکھتا ہے۔ یہ سمندری موجودگی محض دفاعی نہیں، بلکہ طاقت کے مظاہرے کا ایک واضح پیغام ہے۔
اگر موجودہ فوجی تحشید کو اس کی وسعت، جغرافیائی پھیلاؤ اور فضائی طاقت کے تنوع کے ساتھ دیکھا جائے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ جدید تاریخ میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ بیک وقت درجنوں ممالک، سینکڑوں فضائی اڈے، اور سیکڑوں جنگی و معاون طیاروں کا اس انداز سے ہائی الرٹ پر ہونا، کسی معمولی خطرے کا ردِّ عمل نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک ایسی غیر معمولی کیفیت ہے جس کی مثال نہ حالیہ جنگوں میں ملتی ہے اور نہ عسکری تاریخ کے عام صفحات میں۔
سوال اب یہ نہیں رہا کہ جنگ ہوگی یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا واقعی کوئی کمزور فریق اتنے وسیع، ہمہ جہت اور بے مثال خوف کو جنم دے سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایران نے بغیر ایک گولی چلائے، اپنے مخالفین کو اس مقام تک پہنچا دیا ہے کہ وہ اپنی طاقت کے انبار لگا رہے ہیں۔ یہ اخلاقی فتح ہے، یہ نفسیاتی برتری ہے، اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بعض اوقات استقامت، صبر اور اصولوں پر ڈٹ جانا، میدانِ جنگ سے بڑی کامیابی بن جاتا ہے۔
جنگ ابھی نہیں ہوئی—مگر خوف صاف نظر آ رہا ہے۔









آپ کا تبصرہ